ہوا تو کچھ بھی نہیں غالب بسس تھوڑا سا مان ٹوٹا ہے sad poetry



ہوا تو کچھ بھی نہیں غالب

بسس تھوڑا سا مان ٹوٹا ہے

تھوڑے سے لوگ بچھڑے ہیں

تھوڑے سے خواب بکھرے ہیں

بس تھوڑی سی نیندیں اُڑ گئی ہیں

تھوڑی سی خوشیاں چھن گئی ہیں

ہوا تو کچھ بھی نہیں غالب

بس اپنا آپ گوایا ہے

آنکھوں کو برسنا سکھایا ہے

چاہتوں کا صلہ پایا

ہوا تو کچھ بھی نہیں غالب

بس کسی اپنے نے رُلایا ہے

1 Comments

Previous Post Next Post

Advertisement